Thursday, August 29, 2013

Column of Syed Aamir Shah 4

معاشرے میں عورتوں کا مقام
کالمسٹ: سید عامر شاہ

اب تک بیش بہا کالم نگاروں نے لفظ  ”عذابِ زن“ کو اپنی قلم کی روشنی سے اُجاگر کیا ہے۔ مگر دورِ جہالت سے اب تک عورت صرف ایک ایسی چیز ہے جسے یہ زمانہ اپنے مختلف حالاتوں میں استعمال کرتا آیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت ہمیشہ خطیر ناانصافیوں کا شکار رہی ہے۔ ہر لڑکی جب پیدا ہوتی ہے تو اُسے اپنی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک بہت سے مسائل درپیش آتے ہیں۔ جب وہ والدین کے گھر ہوتی ہے تو اُسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اُس کا اصل گھر اُس کے شوہر کا ہوتا ہے۔ اُسے یہ درس بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے پاس امانت کے طور پر ہوتی ہے اور اُسے ایک نہ ایک دن اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر جانا ہوتا ہے۔ مسلسل یہ باتین سن کر پھر ہر لڑکی اپنی آنکھوں میں خواب سجائے ، اپنے ہونے والے شوہر کا انتظار کرنے لگتی ہے۔ اِس کے بر عکس اُس کی عمر کھیل کود کی ہوتی ہے، تب معاشرے کا ہر فرد اپنے ساتھ رشتوں کی لمبی لمبی لائنیں لگا کر اُس کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ روایتی طور پر آنے والا ہر رشتہ اپنے ساتھ ہزاروں اُولجھنیں بھی لاتا ہے۔ یعنی قدرتی نقص والی لڑکی کے علاوہ ٹھیک لڑکی کو بھی ہر آنے والا رشتہ ٹھکرانے لگتا ہے۔ بس یہیں سے تمام لڑکیاں ایک ساتھ احساسِ کمتری کے سفر پر چلنے لگتی ہیں۔ جو بھی رشتہ آتا ہے تو بظاہر اُس رشتے میں کچھ خاص شفافیت نہیں ہوتی مگر آنے والا ہر رشتہ اپنے ساتھ ڈھیر ساری شرائط لاتا ہے۔ شرائط بھی کچھ یوں کہ اُنھیں پورا کرتے کرتے ہر رئیس انسان ہار مان سکتا ہے۔ اِن اَن گنت شرائط کے ساتھ جب ایک لڑکی اپنے تمام رشتوں کو بھلا کر اپنے شوہر کے گھر جاتی ہے تو اُسے ساس یہ کہتی ہے ”بہو زرا دھیان سے رہنا کیونکہ یہ تمہارے بات کا گھر نہیں بلکہ میرے بیٹے کا گھر ہے۔“

اِس قسم کے جملے جب ایک عورت سنتی ہے تو اُس کے ذہن کے دریچوں میں جو خواب سجے ہوتے ہیں، ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ تاہم وہ ایک نئی آس لگائے اپنی اُولاد کے گھر کا انتظار کرتی ہے۔ جب اُولاد لاکھ قربانیوں کے ساتھ بڑی ہو جاتی ہے تو اُولاد کے بجائے ماں کو اُن کے اشاروں پر چلنا ہوتا ہے۔ یعنی عورت ہمیشہ ایک معصوم کلی کی طرح ہر ایک  مکان کو گھر کی شکل دے کر یہ سمجھتی ہے کہ شاید یہ سب گھر اُس کے رہنے کا آشیانہ ہوتے ہیں۔ مگر پتھروں کے زمانوں میں جو عورت ہر مکان کو گھر کی شکل دیتی تھی، آج بھی وہ عورت ہر گھر کو بدستور ترستی رہتی ہے۔
ہم اخباروں کی سرخیوں میں ہمیشہ پڑھتے ہیں“آج کی تازہ خبر کسی گھر میں مٹی کے تیل کا چولہا پھٹا، جل کے مر گئی ایک بہر۔” یعنی پرائی امانت اور کسی کی لائی ہوئی بہن بیٹی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ گھر میں اور عورتیں یعنی ساس اور نندیں بھی تو ہوتی ہیں تو چولہا صرف بے گانی امانت کےلیے ہی کیوں پھٹتا ہے؟۔ اپنی پیدا کی ہوئی بیٹی یا بذاتِ خود ساس اُس چولہے میں جل کر کیوں نہیں مر جاتی؟۔ اِس کے برخلاف بیشتر شادی شدہ مرد جب یہ محسوس کرلیں کہ اُن کی ازواج کے حسن میں کمی آجائے تو وہ کسی دوسری عورت کی نئی مسکراہٹ کے طلبگار ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں شادی شدہ عورت لاشعوری طور پر ہمیشہ اپنے خاوند کے ہر فعل سے باخبر رہتی ہے۔ تاہم عورت پھر بھی اِن تمام تقاضوں کے باوجود اپنی ذمے داریوں سے انحراف نہیں کرتی۔ یعنی وہ بے لوث خدمت گار ہوتی ہے۔ وہ اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے بغیر کسی لالچ کے ، اپنے شوہر سمیت اپنے سسرال والوں کے ناز نخرے سہتی ہے اور اپنے بچوں کے لیے اپنی زندگی برباد کر دیتی ہے وہ بھی بغیر کسی لالچ کے۔ تو میرا سوال صرف اُن مردوں سے ہے کہ جو عورتیں اُن کے ڈھیر سارے بچوں کو پالتی ہیں، اپنے سسرال کی بلاوجہ ٹکے ٹکے کی باتیں سنتی ہیں۔ اگر وہی عورتیں کہیں کہ اُنھیں بھی اپنے شوہروں کی طرح کسی غیر مرد میں دلچسپی لینا ہے تو بتائیں کسی بھی عورت کا یہ جملہ ہر غیرت مند شوہر کے لیے کیسا ہو گا؟۔
میں مانتا ہوں کہ کچھ لڑکیاں اپنے آپ کواشتہار بنا کر جب گھر سے نکلتی ہیں تو لڑکے اُنھیں چھیڑتے ہیں۔ مگر کچھ لڑکے تو برقعہ پہنی لڑکیوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ بلکہ برقعہ پہنی لڑکیوں کا تو دور دور تک پیچھا کرتے ہیں چاہے نتیجتاً اگلے چوک پر اُس برقعے میں اُن کی اپنی سگی ماں ہی کیوں نہ نکل آئے۔ اور ویسے بھی ایسے لڑکوں کے بارے میں کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہےکہ ایسے لڑکوں کا ذہن کچھ یوں ہوتا ہے کہ اگر آپ کسی جھاڑی کے اُوپر کپڑا ڈال دیں تو یہ لڑکے وہاں سارا سارا دن کھڑے رہیں گے کہ شاید اِس میں کوئی حرکت ہو جائے۔
جب ایک مرد اخلاق سے گرے ہوئے ایسے کام کرتا ہے تو وہ اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر خاموش کروادیتا ہے کہ وہ تو مرد ہے اور مرد کے لیے یہ دنیا تخلیق کی گئی ہے۔ اِس دلاسے پر وہ ہر ایک خیر اخلاقی کام کر جاتا ہے۔ مگر جب ایک عورت کوئی ایسا کام کر جاتا ہے۔ مگر جب ایک عورت کوئی ایسا کام کر دے تو سب مرد حضرات اُسے ازیت کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ جب عورت اپنے حق میں صفائی دیتی ہے تو اُسے یہ چند جملے کہہ کر آخرکار مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ “عورت تو پابند ہے، وہ تو مقید ہے اور اُسے تو پیدا کیا گیا ہے گھر کی چاردیواری کے تقدس کے لیے۔ اُسے تو گھر میں ہی رہنا ہو گا چاہے کچھ بھی ہوجائے، عورت کا کام ہے انسانوں کو جنم دے کر معاشرے کو اچھی نسل دینا، اور مرد کو جب باری تعالیٰ نے پیدا فرمایا تو فرمایا کہ اے مرد ذات! یہ دنیا اور خصوصاً عورتیں تو تیرے لیے پیدا فرمائی گئی ہیں، اِس لیے تجھے چار چار شادیوں کا حق حاصل ہے۔
آخر کیوں ایسی بے انصافیاں صرف عورت کے ساتھ ہی پیش آتی ہیں۔ اگر چار شادیوں کے بارے میں بات کی جائے تو حقیقت یہ ہے کہ عورت میں صبرو قناعت ہے۔ وہ کسی ایک مرد کے نام پر اپنی پوری زندگی گزار سکتی ہے۔ نہ صرف اُس کے جیتے جی بلکہ مرنے کے بعد بھی اُس کے بچوں اور اُس کی عزت کو سنبھال سکتی ہے اور اُس کے گھر کی چاردیواری میں ہمیشہ کے لیے رہ سکتی ہے۔ مگر کچھ مردوں کی فطرت کو اللہ تعالیٰ جانتے تھے، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے کچھ ایسے مرد تو تخلیق کر دئیے ہیں۔ لہذا اِ ن مردوں کا ذہنی کیڑا اِنھیں چین سے رہنے نہیں دے گا اور یہ اپنی عورتوں کے باوجود باہر دوسری عورتوں کے پاس جائیں گے۔ اِس لیے اسلام نے اِن مردوں کو صرف گناہوں سے بچانے کے لیے چار چار شادیوں کی اجازت دی۔ مگر ایسے مرد ذات اِسی فلسفے کو کسی اور شکل میں بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چار چار شادیوں کی دھمکی دے کر یہ مرد اپنی بیویوں کو قابو میں رکھتے ہیں۔ لفظ طلاق کو اپنا ہتھیار بنا کر ایسے مرد اپنی بیویوں کو مظلوم سمجھتے ہیں اور اگر کسی عورت سے تھوڑی سی غلطی ہو جائے تو اُس کے کردار پر طلاق کا سیاہ دھبہ لگا دیتے ہیں۔ اگرچہ دیکھا جائے تو کوئی بھی عورت اپنی خوشی سے یہ داغ نہیں لگاتی مگر زمانے کی بددیانتیاں اور ناانصافیاں اُسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ طلاق جیسی زلت کا طوق پہنے۔ اِسی طرح چارشادیوں کا بار بار ذکر کر کے کچھ شوہر اپنی بیویوں کو ہمیشہ اپنے آپ سے کمتر سمجھتے ہیں۔ تو ایسے مرد شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ چار چار شادیوں کی اجازت صرف اُن مردوں کو حاصل ہوتی ہے جو چار شادیاں بہتر طریقے سے  سنبھال سکتے ہیں۔ مگر ایسے جہلاءمرد اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے منہ سے نوالہ چھین کر دوسری عورتوں کے منہ میں ڈال دیتے ہیں۔ یعنی جب وہ کسی دوسری عورتوں سے ملتے ہیں تو رسماً یہی کہتے ہیں۔
”میری شادی میری  پسند سے نہیں ہوئی، ابھی میں بہت چھوٹا تھا جب میرا نکاح کیا گیا، خدا کی قوم اُس عورت سےآج تک میری انڈرسٹینڈنگ نہیں ہوسکی۔“
پھراِن جملوں سے جب دوسری عورتیں شادی کے لیے راضی ہو جاتی ہیں تو مرد اپنی دوسری بیوی سے کہتا ہے“بیگم کمرومائز کرو” اور پہلی والی کو کہتا ہے“بیگم مجھے معاف کر دو مجھ سے تو غلطی ہو گئی” تو بظاہر ہمارے معاشرے کا تقریبا ہر مرد دوسری شادی اسلامی نقطہ نظر سے نہیں  کرتا۔
کہتے ہیں صرف نیک مردوں کو جنت میں 70 حوریں ملتی ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ عورت کو اِسی دنیا میں وہ مقام مل جاتا ہے جس کی برابری کوئی مرد نہیں کرسکتا۔ یعنی عورت جب ماں بنتی ہے تو اُس کے قدموں تلے جنت آجاتی ہے۔ اور تو اور نیک مردوں کو تو صرف چند حوریں ملتی ہیں مگر نیک عورتوں سمیت بری عورتوں کو بھی ماں کا درجہ مل جاتا ہے۔ سو اِس حساب سے دیکھا جائے تو مرد زیادہ خوش نصیب عورت ہوتی ہے۔ مرد کو جنت میں حوریں ملتی ہیں جبکہ عورت کے قدموں تلے پوری کی پوری جنت ہوتی ہے۔ خیرٗ بہت سے مرد اِس بات سے اتفاق نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ عورت بذاتِ خود ماں نہیں بنتی، تاہم اُس کے ماں بننے میں مرد کا ساتھ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ مگر میں اُن سب مردوں کو ایک چھوٹی سی مثال دے کر ہمیشہ کے لیے خاموش کروادینا چاہتا ہوں کیونکہ بہت سے مرد دینا میں ایسے ہیں جو بذاتِ خود مرد ہوتے ہوئےبھی کسی عورت کو ماں نہیں بناسکتے۔ لیکن جس عورت کے بخت میں اگر اللہ تعالیٰ نے جنت کرنی ہو، تو اُسےحضرت بی بی مریم کا روپ دے کر اُس کے بدن سے اللہ تعالیٰ ایک بار پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے نیک پیغمبر انسان کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ تو تمام مرد حضرات اِس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ عورت اگر ماں ہے تو اُسے حضرت بی بی ہاجرہ سمجھا جائے، اگر وہ ایک بہن ہے تو اُسے حضرت بی بی زینب ؓ، اگر وہ ایک بیٹی ہے تو اُسے حضرت بی بی فاطمہؓ اور اگر وہ ایک بیوی ہے تو اُسے حضرت ایوب علیہ السلام کی چوتھی بیوی یعنی حضرت بی بی رحیمہ سمجھا جائے۔ جاتے جاتے میں شادی شدہ افراد کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جب میاں بیوی آپس میں سمجھوتے سے نہیں رہیں گے، انڈرسٹینڈنگ سے نہیں رہیں گے، اپنے گھر کی باتیں دوسرے لوگوں کو جاکر بتائیں گے، اپنے گھر کی چاردیواری میں چور دروازے دیں گے تو اُس گھر کو میں تو کیا بلکہ اِس دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ٹوٹنے سے روک نہیں سکتی۔

Column of Syed Aamir Shah 3

تعلیم اور ہمارا نظامِ تعلیم
کالمسٹ: سید عامر شاہ

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد بہت سے لوگوں نے یہ جان لیا کہ برصغیر میں مسلمانوں کو وہ درجات حاصل نہ تھے جو اُنھیں صدیوں پہلے مل چکے تھے۔ سر سید احمد خان ؒ اولین مفکرہیں جسے شروع شروع میں اہل برصغیر کے تمام مسلمانوں نے اپنا دشمن مان لیا تھا، تاہم اُن کی کاوشوں سے ہی آج ہمیں اپنی ایک الگ شناخت ملی ہے۔ وہی ہمارے لیے اُمید ِسحر کی پہلی کرنیں قلم کے زریعے لائے تھے۔ جب اُنھوں نے انگریزی زبان کو مسلمانوں کے لیے ضروری سمجھا تو وہیں سے ہمیں آزادی کی پہلی کرنظر آئی۔ پھر شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے 1930ء میں خطہ الہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں اُن کے ادھورے خوابوں کو ایک بار پھر اُجاگر کیا۔ اُن کا کہنا یہ تھا۔
”مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآ خر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ اِس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کریں۔ میں صرف ہندوستان اور اسلام کی فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں۔“
یہ مطالبہ اسلام کے کردار کا بحیثیت ایک اخلاقی انصب العین تو ضرور تھا، تاہم پھر 23مارچ 1940ء منٹو پارک میں کچھ اور مطالبات نے جنم لیا اور یوں ہمیں صرف 7 سالوں کی مختصر جدوجہد سے ایک الگ اور خود مختیار وطن نصیب ہوا۔ میں نے گذشتہ لائنوں میں جن جاذبِ نظر شخصیات کو یاد کیا ہے، وہ تمام اشخاص صرف تعلیم اور قلم ہی کی بنیاد پر ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بطورِمسیحا کام آئے تھے۔ اگر دیگر مسلمانوں کی جگہ وہ بھی علم کی روشنی سے محروم ہوتے تو یقیناً ہمیں خوبصورت محل وقوع کے لحاظ سے پاکستان جیسا ملک کبھی میسر نہ ہوتا۔علم کی ترتیب و تدوین کی بدولت سر سید احمد خانؒ سمیت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظمؒ جیسے لوگوں نے ہمیں وہ کام کر دکھایا جسے ہم اپنی زبان میں اگر معجزا کہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ دنیائے عالم میں پاکستان واحد ملک ہے جسے صرف مذہب ، علم اورقلم کے زور پر ہی ہندوستان کے ہزاروں لوگوں سے الگ کیا گیا تھا۔ مگر آج کیا ہم اُس مذہب، علم اور قلم کو صحیح طریقے سے استعمال کر رہے ہیں؟۔
اِس کا جواب تو اب شاید میرے پاس بھی نہیں کیونکہ مجھے قلم پکڑنی تو آتی ہے مگر اُسے چلانا میرے بس کی بات نہیں۔ ہماری تعلیم میں اب شاید وہ جذبہ نہیں رہا جس سے پہلے کبھی ہم آشنا تھے۔ پاکستان کے اساس میں نظریہ پاکستان کو بہت اہم مقام حاصل ہے لیکن کیا آج ہم نظریہ پاکستان کا مطلب جانتے ہیں ؟۔ ہمارے قومی ہیروز بظاہر تو یہ چاہتے تھے کہ پاکستان میں اسلام کے ساتھ لوگ تعلیم سے بھی واقف ہو جاتے اور وہ دنیا کے معروف لوگوں کا مقابلہ کرتے۔ لہذا اُن کے نظریات تو آج بھی کتابوں اور خطوں میں زندہ ہیں اور بظاہر پاکستان کی قوم دنیا کے معروف لوگوں سے مقابلہ کرتی آرہی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ قلم کی جگہ کیبل اور پڑھائی کی جگہ لا پرواہی آچکی ہے۔ انصاف کی جگہ بے انصافی اور حلال کی جگہ حرام اپنی اپنی جگہ بدل چکے ہیں۔ جس ملک کو ہم اپنا روایتی حریف سمجھتے ہیں اُسی کی تمام فلمیں، ڈرامے اور چٹ پٹی باتیں ہمارے ہی ملک میں پائی جاتی ہیں۔ بولی وڈ سے مشابہت رکھتے ہوئے ہم یورپ سمیت ساوتھ اورنارتھ آمریکہ سے بھی پیچھے نہیں۔فیس بک، ٹیوٹٹر اورلاتعداد سوشل ویب سائٹز کے زریعے ہماری ہر معلومات اب اُن کے پاس موجود ہے۔ کہتے ہیں 600ء سے لے کر 1600ء تک تعلیمی دور مسلمانوں کے پاس تھا مگر پھر عروج سے زوال کے بعد آج ہم کچھ اتنے مفلس اور ناتواں ہوچکے ہیں کہ ہم اپنے ہی ملک میں اپنی تعلیمی معیار کے ساتھ بذاتِ خود کھیل رہے ہیں۔ ہم نے صرف تعلیم اور قلم کی قدر چھوڑی اور اُنھوں نے اسی تعلیم اورقلم کی قدر کی، جنانچہ فیصلہ آج آپ لوگوں کے سامنے ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ بولی وڈ اور ہولی وڈ کی ویب سائٹز دیکھی جاتی ہیں۔ کیوں نہ دیکھی جائیں، اُنھیں دیکھ کر تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ لوگ ہم سے ہر معاملے میں کئی قدم آگے ہیں۔ تو کیا کبھی ہم نے اپنے کم ترقیافتہ ملکوں کی طرف نظر دوڑائی ہے؟جنہیں اگر صبح کا کھانا نصیب ہوتا ہے تو رات کا کھانا پیدا کرنا اُن کے لیے بہت مشکل کا م ہوتا ہے۔ آمریکہ جو آج کل کے زمانے کا سپر پاوور کہلاتا ہے ، اُس کے اپنے ہی بیشتر شہروں میں کئی لوگ بھوک سے دم توڑ جاتے ہیں۔ اور جہاں تک رام ، بھگوان، ہنومان اور عشور والے ملک بھارت کی بات ہے تو رقبے کے لحاظ سے وہ یقیناً ہمارے ملک سے کافی بڑا ہے مگر کیا کبھی ہم نے اُس کی بڑھتی ہوئی خطیر آبادی پر غور کیا ہے ؟۔ اپنی بڑھتی آبادی کے لحاظ سے پوری دنیا میں اُس کا نام دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ہم اپنے ملک کو غریب اور مفلس سمجھتے ہیں۔ بھارت کے صرف دوشہر یعنی نئی دہلی اور ممبئی کی آبادی ہمارے ملک کی تمام آبادی سے کافی زیادہ ہے۔ لہذا ہم کیوں ایک طرفہ سوچ کے حامل ہیں ؟۔ آخر ہمیں حقائق نظر نہیں آتے ؟۔ شاید اِس لیے کیونکہ  ہم سے لاشعوری طور پر قلم کی اہمیت کھو چکی ہے۔
تعلیم کا پاتال کیا ہے ؟ چلیں اِس پر کچھ سوچتے ہیں۔ میرے ملک میں معیارِ تعلیم کچھ اِس قدر مسمار ہو چکی ہے کہ کسی صاحبِ مضمون سے پوچھا جائے کہ دیوانِ غالب کس نے لکھا ہے تو ہمیں جواب ”پتہ نہیں“ میں ملے گا۔ ایم ایس سی فزکس کی ڈگری لینے والے طلبات کو بجلی کا فیوز تک لگانا نہیں آتا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہماری قوم کے طالب علم ہاتھوں میں اپنے تعلمی کاغذات کے پرزے لے کر نوکریوں کی لائنوں میں لگے رہتے ہیں۔ عرصہ دارز میں لوگوں کے پاس ڈگریاں اور اسناد موجود تو نہیں تھے مگر رسمی علم اور تعلیم ضرور تھی۔ مگر آج ہم اپنے ملک کی عوام کا تعلیمی حال دیکھیں تو لوگ جاہل مطلق، کتابِ دشمن اور ایک عدد ڈگری نقل یا نوٹس کی مدد سے پاس کرلیتے ہیں۔ ایسے ہی کئی انسان سے اگر پوچھا جائے کہ اُس نے ایم اے یا ایم ایس سی میں کسی اوریجنل کتاب کامطالعہ کیا ہے تو یقیناً ہمیں یہ جواب ملے گا کہ سوائے کچھ نوٹس اور خلاصوں کے اُس شخص نے تقریباً ایک کتاب کا بھی مکمل طور پر مطالعہ نہیں کیا ہوگا۔
تعلیمی نظام کو بر باد کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ کمزور اور غریب ملکوں کے تجارتی رویوں کا ہے جو خلوصِ علم کی نہیں بلکہ ڈگریوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ اِس لیے ہمارے ملک کی تمام لڑکیاں اور لڑکے اچھی جی پی اے یعنی گریڈ، پوئنٹ اوراوریج کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جب وہ اچھی جی پی اے لے کر پروفیشنل لائف میں آتے ہیں تو اُنھیں پاکستان میں اچھی نوکریاں بھی مل جاتی ہیں کیونکہ قحط الرجال ہے۔ پھر وہ نئی نسل کو بھی وہی طریقہ بتاتے ہیں جو اُنھوں نے اختیار کای ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمارے بڑے ہی اگر ایسے کاموں کو درست سمجھ لیں تو دورِ وقت کی اِس نسل کا کیا ہوگا ؟۔ ہماری اُمیدِ سحر کا کیا ہوگا ؟۔ مغربی ممالک کے حوالے سے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کے اِس اہمیت خیز شعر سے میں اپنی اِس جاری و ساری قلم کا سلسلہ ختم کرتا ہوں۔
”سورج ہمیں ہر شام یہ درس دیتا ہے اقبالؔ
کہ مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے“

Column of Syed Aamir Shah 2

ہمارا کراچی اور  الیکشن 2013ء
کالمسٹ: سید عامر شاہ

کچھ دن پہلے پاکستان میں الیکشن برپا تھے۔ مختلف ڈیرے آباد اور لوگوں کے ہاتھوں میں تازہ حقے تھے۔ بہت سے انجان لوگوں کی بلاوجہ خدمت کی جا رہی تھی۔ ہر رنگ ونسل کے تمام انسانوں کو ترقی کی راہ دیکھائی دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا ہ ہمیں ایک نیا پاکستان ملنے والا تھا مگر 11 مئی کے دن ہمیں اُمیدِ سحر کے بجائے وہی پرانہ پاکستان ملا جسے ہر حال میں بدلنا تھا۔ 1993ء کے انتخابات سے لے کر اب تک لوگوں کے نظریات ایک جیسے تے۔ یعنی ہر صوبہ اپنی شناخت بنانے کے لیے صرف اُس پارٹی کو ہار بار منتخب کرتا ہےجو صرف اُسی کے لیے ہی مفید ہوتی ہے۔ چاہے وہ پارٹی دیگر صوبوں کی ردی بھر ترقی دے نہ دے کسی کو اِس سے کیا ؟۔ اگر ہم پاکستان کے شہری کہلاتے تو سابقہ انتخابات کی طرح اِس الیکشن میں بھی ہم ایک ایسی پارٹی کو اقتدار میں لاتے جو صرف ایک صوبے تک محدود نہ وہوتی بلکہ وہ پورے ملک کے لیے کار آمد ہوتی۔ مگر افسوس کہ اِس بار بھی نتائج وہی ہیں جو 2008ء کے الیکشن میں ہمیں موصول ہوئے تھے۔ اگر صوبہ خبیر پختونخوا کی بات کی جائے تو اِس صوبے کی حقیقی منعوں میں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ 1993ء کے انتخابات میں اِس صوبے نے اپاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، 1997ء میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایل ایم این)، 2002ء میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور 2008ء میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو کئی مواقع دیئے۔ نتیجتاً اِس صوبے میں چند تبدلیوں کے علاوہ کچھ اور سامنے نہ آسکا۔ سابقہ الیکشن کے بعد اِس صوبے کو ریڈ زون کا نام دیا گیا۔ یہاں سے سب زیادہ دہشت گردی پائی جاتی تھی۔ بم دھماکوں کے علاوہ کئی ایسے حوادث بھی دیکھنے کو ملتے جنہیں بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ ڈران حملوں کی فہرست میں کئی لواحقین کو اُن کے پیاروں کی لاشیں بھی دیکھنے کو نصیب نہ ہوئیں۔
اب چلتے ہیں سندھ کی جانب۔ اِس صوبے میں بھی یہی صورتِ حال رہی۔ مہاجروں کی حکومت میں سندگی عوام ہر ظلم وستم کا نشانہ بنتی رہی۔ جب اِس صوبے میں کوئی حادثہ پیش آتا تو تمام سیاستدان اُس حادثے کی خوب لفظی مزمت کرتے۔ حالانکہ اُنھیں چاہیے تھا کہ وہ ہر ایک حادثے کا بھر پور نوٹس لیتے۔ مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔ سابقہ حکومت نے خبیر پختونخوا کی طرح سندھ کی عوام کے لیے بھی کچھ مثبت پیش رفت نہ کی۔ ملک بھر کے شہروں سمیت کراچی میں بھی 2008ء کے الیکشن کے بعد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
کہا جاتا ہے کسی ملک کی معیشت اُس کے ترقیاتی شہروں سے وابستہ ہوتی ہے۔ لہٰذا دیکھا جائے تو معیشت کے لحاظ سے کراچی شہر پاکستان کی معیشت میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اِس شہر میں سبگ سے زیادہ انڈسٹریاں، مختلف ملز، کارخانے اور بے شمار اسناد موجود ہیں۔ اگر کراچی کو ہمارے ملک سے الگ کر دیا جائے تو پاکستان اِس شہر کے بغیر ایسا ہے جیسے سر کے بغیر انسانی جسم۔ صوبہ سندھ کا یہ شہر اِن چیزوں کے علاوہ سمندری لحاظ سے بھی کافی اہمت کا حامل ہے۔ انگریزوں نے کراچی کو بہت کچھ دیا جس میں قابلِ غور بات بندرگاہ قاسم ہے۔ صرف اِسی بندرگاہ کی مدد سے ہم بہرہند سے کئی چیروں کی درآمد اور برآمد کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہ شہر آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بھی پاکستان کے تمام شہروں سےبڑاہے۔ تاہم پرانے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ کراچی غریبوں کا ماں باپ ہے۔ پورے ملک سے لوگ نوکریوں کی تلاش میں صرف اِسی شہر کی طرف اپنا رخ کرتے تھے۔
لیکن 1970ء سے لے کر اب تک پاکستان ک اِس ترقیاتی شہر کو کئی سازشوں کے زریعے آہستہ آہستہ نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ 2008ء کے الیکشن کے بعد اِس شہر میں تیزی سے خون کی ہولی کھیلی جانے لگی۔ آئے دن کوئی نہ کوئی سنگین سانحہ کراچی کی عوام کو برائے تحفہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ بہتاخوری، غنڈا گردی، ہٹ دھرمی اور ناجائز احکامات نے اب تک کراچی کے رہائشی لوگوں کو اُن کے گھروں میں بھی پریشان رکھا گیا تھا۔ اِس حساب سے سب سے زیادہ جانیں کراچی میں ضائع ہوئیں اور حکومتی سطح پر اِس حادثوں کو کئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
اب الیکشن 2013ء کے انتخابات میں بھی کراچی کی عوام کو انصاف نہیں ملا۔ این اے 1 سے لے کر این اے 272 کے تمام حلقوں میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پولنگ کروائی گئی۔ کچھ حلقوں میں قانون کو بالاتررکھتے ہوئے صحیح طریقے سے پولنگ کئی گئی۔ مگر جب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا نمبر آیا تو اِس شہر کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کے انکشافات دیکھنے کو ملے۔ خصوصاً حلقہ 250 میں تو یہاں تک دیکھا گیا کہ ووٹر کی مرضی کے خلاف ووٹینگ کی گئی۔ کراچی کے مخصوص لوگوں کی فہرست میں بڑے بڑے غنڈوں اور وقت کے فرعون لوگوں نے اپنی مرضی سے اِس بار بھی عوام سے اُن کے صحیح ووٹ حق چھینا۔ یہ لوگ کراچی کی عوام کے لیے گذشتہ کئی سالوں سے ناسوربن کر اُن کی شررگ پر بیٹھے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اِن لوگوں کے تعلقات سندھ بھر میں کئی شہروں تک محدود ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جب یہ محسوس ہوا کہ کراچی میں دھاندلی کے زریعے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ناجائز ووٹینگ کی گئی۔ تو اُس کی طرف سے اب دوبارہ حلقہ 250 پر پولنگ ہو گی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے سر براہ میاں محمد نواز شریف جو اب تک کے نتائج کے مطابق اگے پانچ سال کے لیے ویزرِاعظم مقرر ہو چکے ہیں، اب اُن سے یہ مودبان0ہ التماس کی جاسکتی ہے کہ وہ حلقہ 250 میں پولنگ کے حوالے سے سنجیدگی سے کوئی نوٹس لیں۔
اِس حلقے سے جن پارٹیوں کے اُمیدواروں کے ساتھ ناانصافی کی گئی تھی، اُنھیں اپنی پارٹی کے مطابق صلہ مل سکے۔ کراچی کی عوام ہمیشہ سے حق کا ساتھ دینا چاہتی ہے مگر بدنامِ زمانہ اِن چور ڈاکوں کے ہوتے ہوتے نہ ماضی میں کراچی کےلوگوں کے لیے کچھ اچھا ہوا تھا نہ اب ہوا ہے اور نہ ہی کبھی اُنھیں اُن کے حق کا مناسب صلہ مل پائے گا۔

وہ کہتے ہیں نہ کہ سیاسی انتشار اور تشدد کا شکار ہونے والی قوموں میں مایوسی پھیلنے لگتی ہے۔ لہٰذا مایوسی کے اِس وقت میں کراچی کی عوام میں اُمیدِ سحر کی شمع جلائی جا سکتی ہے۔ بشرطِ حلقہ 250 میں دوبارہ شفاف پولنگ کروائی جائے۔ اگر کراچی کی عوام کو دوبارہ اپنے منتخب اُمیدوار کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا تو یقیناً کراچی کی عوام اندھیروں کو شکست دینے میں کچھ حد تک کامیاب ہو جائے گی۔ 11 مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد پاکستان اب بھی انتشار اور تشدد کا شکار ہے۔ ملک کی ساری عوام اب بھی حلقہ 250 کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہے لیکن مایوسی کے اندھیروں میں مجھے اُمیدِ سحر کی کچھ ہلکی ہلکی روشنی نظر آرہی ہے، اِس لیے میں مایوس نہیں ہوں۔ مجھے خطرات اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل میں ایک بہت نمایاں تبدیلی جنم لیتی ہوئی دکھائی رے رہی ہے۔ یہ تبدیلی مجھے اِس شہر کی عوام کی سوچ میں نظر آرہی ہے کیونکہ وہ اپنی جان و مال کو خطروں میں ڈال کر اپنے گھروں سے باہر حق کی آواز کے لیے نکلی ہے۔ اِس تبدیلی کو ایک مثبت اور تعمیری رخ دینا ہماری سیاسی قیادت کا فرض ہے اور اگر اہل فکر و دانش اپنی ذاتی مصلحتوں سے بے نیاز ہو کر سچ کا ساتھ دینے لگیں تو پھر تمام سیاسی قیادت بھی سچائی کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجائے گی۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں کراچی کی عوام کی آواز میں اپنی آواز ملانی چاہیے۔ 

Column of Syed Aamir Shah 1

ووٹ کی اہمیت اور ہمارا کردار
کالمسٹ:سید عامر شاہ

الیکشن الیکشن الیکشن----- آج کل ہر طرف نظر دوڑائیجائے تو ہر زبان پر یہی لفظ ملے گا۔ اگر ووٹر سے پوچھا جائے کہ اُس کے ہاں الیکشن اور اُس کے قیمتی ووٹ کی اہمیت کیا ہے تو کچھ مخصوص الفاظ کہہ دینے کے بعد وہ یقیناً خاموش ہو جائے گا۔ اُس کا یہی کہنا ہوگا کہ وہ اپنے پسندیدہ قائد کو ووٹ دے گا مگر حیرت انگیز طور پر اُسے اپنی پارٹی کا منشور ہی معلوم نہیں ہوگا؟۔ مجھے خدشہ ہے بہت سے لوگ اخبارات اور ٹی وی میں رنگین اشتہارات دیکھ کر اپنے ووٹ کو قربان کر دیں گے۔ کاش اُنھیں یہ معلوم ہوجائے کہ جو اشتہارات وہ اپنے ٹی وی چینل پر دیکھ رہے ہیں وہ اُن کے ہی پیسوں سے تیار ہوتے ہیں۔ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے علاوہ دیگر ٹیکس سے جب ہمارا قومی خزانہ بھر جاتا ہے تو ہر سیاستدان اپنی سیاست سے اُسے ایسے صاف کرتا ہے جیسا گدھے کے سر سے سینگ

وجودِ پاکستان سے لے کر اب تک ہر پارٹی کوئی نہ کوئی مہم چلا کر عوام کو ہمیشہ بیوقوف بناتی آئی ہے۔ مگر آج بھی مجھے وہی دور نظر آرہا ہے جب ہمارے لوگ پرٹیوں کے جال میں آکر اپنا ووٹ ٹھیک انسان کے بجائے اُس انسان کے حوالے کر دیتے تھے جو صرف نام کی سیاست کرنا جانتے ہیں۔ بس آج بھی بزرگ اور جوان برادری جلسوں کی شکل میں مختلف پارٹیوں کے جھنڈے لیے سڑکوں میں نعرے لگاتے نظر آتی ہے۔ کیا یہی ہے “اُمیدِ سحر” جس کا خواب ہم الیکشن 2013ء میں دیکھنا چاہتے ہیں؟۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پچھلی حکومت میں بھی اِسی طرح کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اور الیکشن کے بعد اِنہی لوگوں کو آٹے اور سرکاری لائنوں میں دیکھاگیا تھا۔ تو کوں یہ کہہ سکتا ہے کہ تبدیلی آنے والی ہے؟۔
اگر تبدیلی آتی تو رواں الیکشن میں عوام خاموش تماشائی بن کر ہمارے حکمرانوں کوسایت کے اکھاڑے میں لڑتا دیکھتی۔ پھر جو پارٹی حقیقی معنوں میں الیکشن کے حصول کی حقدار ہوتی تو اُسی کو ہمارا قیمتی ووٹ دیا جاتا۔مگر ہائے افسوس ---- دورِجہالت کی یہ عوام وہ غلطی کرنے جاری ہے جو وہ 65 سالہ دور میں بار بار دوہراتی آئی ہے۔ آج بھی پاکستان کے تمام صوبوں میں ہر مرکزی جماعت اپنی مضبوظ جڑیں جمائے بیٹھی ہے۔ سابقہ حکومت میں اگر ہر صوبے پر توجہ دے جائے تو نتائج یہ تھے کہ ہر صوبے میں ایک ہی پارڑی کی حکومت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ 2008ء کے الیکشن میں ایک حکومت نہیں بلکہ ہر صوبے میں مختلف حکومت دیکھائی دے رہی تھی۔
نجانے وہ سیاستدان انصاف پسند تھے یا نہیں مگر اُنھیں ہر حال میں اپنے صوبے میں اپنی روایتی حکومت قائم کرنا تھی۔ وہ ایسا کرسکتے تھے کیونکہ ہماری عوام اپنے فائدے اور نقصان کی جنگ میں آج تک مصروف ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ووٹ اور اپنے کردار کو سمجھیں۔ پچھلے الیکشن کی طرح صرف 45 فیصد لوگ ہی ووٹ ڈالنے گئے تھے۔ تاہم نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اب ہمیں حوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ الیکشن والے دن تعطیل ہے اور اِس چھٹی کو ہمیں گھر بیٹھ کر ٹی وی اور اخبارات کی نظر نہیں کرنا چاہیے۔ ہم نے اِس دن بھی سستی کا مظاہرہ کیا تو لوگوں سنو---- پھر یہ نہ کہن کہ پاکستان میں بجلی کا مسئلہ ہے، کرپشن ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، کھانے کو آٹا اور جلانے کے لیے گیس نہیں، گھر سے باہر جان ومال کاخطرہ ہے، یہ روز روز حکمتی سطح پر چھٹیاں کیوں ہوتی ہیں، یہ ڈرون حملوں اور دھماکوں سے انسانی زندگیاں کیوں برباد ہو رہی ہیں، ہماری معیشت دن بدن گرتی جارہی ہے، اور ہمیں اُمیدِ سحر نہیں مل سکی۔ اِس لیے ہماری عوام کو چاہیے کہ وہ 11مئی2013ء کو اپنا ووٹ اُس پارٹی کو دے جسے وہ ہر نظریئے سے جانتی ہو۔ پاکستان کی تقدیر ایک ایک ووٹ کے اندر محفوظ ہے اور ہر ووٹ ہر انسان کی طاقت ہے۔ مخالفین ممالک ہمارے ملک کو توڑنے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔ تاہم اُن کے لیے ایک شعر ہے۔

”دنیا نے تجروبات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ دیا تھا اُسے لوٹا رہا ہوں میں


یعنی اگر ہم نے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کیا تو ہمارے اِس فعل سے حریف ممالک کے دانت کٹھے ہو سکتے ہیں۔ اِسی ملک نے ہمیں ایک الگ شخصیت دی اور آج دنیا میں ہمیں ایک الگ پہچان سےجانا جاتا ہے۔ خدارا اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں یقیناً آپ کے ووٹ سے اِس بگڑتے ہوئے ملک کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ اُمیدِ سحر کے لیے ہماری پہچان ہمارا ووٹ ہے اور اِسی ووٹ کے ساتھ ہمارے ملک کی ترقی وابستہ ہے۔ میرا یہ پیغام میرے قارئین کو مل جائے تو میں سمجھوں گا کہ میرا پاکستان مستقبل قریب میں قائداعظم والا پاکستان کہلائے گا۔ انشاء اللہ 

Majburi

مجبوری
کالمسٹ: عبداللہ خان صابر
زندگی کا دوسرا نام ”آزمائش “ہے۔ اب یہ زندگی اِنس وجن کے علاوہ بناتات و حیوانات کو بھی دی گئی ہے لیکن انسان اور دوسرے جانداروں میں اگر کوئی شے مانہ الامتیاز ہے تو وہ تعقل اور استدلال کا مادہ ہے جو قدرت نے انسان میں ودیعت رکھا ہے اور جس سے دوسرے جاندار محروم ہیں، اِس بناء پر انسان اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کا خطاب دیئے بیٹھے ہیں یہ شرف حاصل کرنے کے بعدانسان لمحہ بہ لمحہ آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ ام مشاہدے کی بات ہے کہ جس شخص کا عہدہ جتنا بڑا ہو اُتنا ہی اُس پر بوجھ زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ زمے داری بھی ہوتی ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی خاطر یہ جہاں بنا ڈالا۔ یعنی آپ ﷺ کو ایک ایسا مقام دیا کہ آج تک نہ کسی بندے کو دیا گیا ہے اور نہ دیا جائے گا، لیکن اُس کے ساتھ ساتھ اُن کی زمہ داریاں بھی زیادہ سونپی گئیں جس کے لیے آپ ﷺ کو ہر وقت اذیت ناک آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا جس کی تفصیل قرآن و احادیث اور سیرت البنیﷺ میں آپ کو سب کچھ مل سکتا ہے۔ اور یقیناً ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہر کسی نے پڑھا ہوگا۔ اِس لیے میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔
اچھا قارئین بات آزمائش اور امتحان کی ہو رہی تھی تو جب کسی انسان کو آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ مجبور ہو جاتا ہے یعنی اِس کا دوسرا نام مجبوری ہے اور اِس مجبوری کو ہم ہمیشہ غلط نقطہ نظر سے دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ اِس سے انسان دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے اور زندگی سفر بن جاتی ہے۔ اِس لیے ہم ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ یااللہ ہمیں کسی کے سامنے مجبور نہ کرے اور دن رات ایک کرکے مختلف مقاصد کے حصول کی بھاگ دوڑ میں مصروف رہتے ہیں تاکہ ہمارے ہاتھ سے کسی کےسامنے پھیلنے سے بچ جائیں اور زبان پر ”دے دو“ کا لفظ نہ آئے۔ لیکن کبھی آپ نے ٹھنڈے دماغ سے یہ سوچا ہے کہ مجبوری کے بہت سے فائدے بھی ہیں جن میں سے چند یہاں زیر قلم کرنا ہوں گا۔
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مجبور ہوکر انسان حقوق اللہ ادا کرنے کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ یعنی جب اُس کے سامنے کوئی مصیبت یا پریشانی آجاتی ہے تو وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ نماز پڑھتا ہے، قرآن کی تلاوت کرتا ہے، ذکر و اذکار اور استغفار کو زور دیتا ہے اور مختلف وظائف بھی کرتا ہے تو اِسی طرح اللہ تعالی اور انسان کے درمیاں جو رشتہ تھا ہے اور رہے گا،مزید مضبوط ہوجاتا ہے تو یہ مجبوری ہے جو ایک بندۂ نافرمان کو اپنے رب کی فرمانبراری کا لائق بناتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوتی ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
یہی مجبوری حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک انسان کو جب کسی چیز کی ضرورت پڑ جاتی ہے یعنی مجبور ہو جاتا ہے تو اگر دوسرے بندے کے پاس وہ چیز موجود ہو تو یہ جاکر اُس سے مانگ لیتا ہے اگر وہ دیتا ہے تو دونوں کے درمیان ”لنک“ پیدا ہو جاتا ہےجو حقوق العباد ہے۔ اگر انکار کرے تو بھی فائدہ ہے کیونکہ انکار سے آپکو کسی شخص کا پتہ چلتا ہے کہ یہ کس ٹائپ کا ہے؟۔ اِس کے بارے میں پشتو کے معروف شاعر اور بزرگ رحمٰن بابا فرماتے ہیں۔
” اخپل و پریدے پکے معلوم شی اے رحمانہ
کلہ کلہ دا غمونوں دوران خہ وی“
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ پر غموں کی بارش ہوتی ہے یعنی آپ مجبور ہو جاتے ہیں تو اِس میں آپ کو اپنے اور پرائے کا پتہ چل جاتا ہے۔ انسانوں کے علاوہ جانور بھی مجبوری کے باعث دشمن سے دوست بن جاتےہیں۔ کتا اوربلی جب پھنس جاتے یں تو ایک ہی پنجرے میں زندگی گزارتے ہیں۔ پھول، کانٹوں کی آغوش میں رہتے ہیں کیوں؟ مجبوری۔ اِس طرح ہزاروں مثالیں آپ کے سامنے آتی ہیں۔
تو جب آپ پر کوئی بھی آزمائش آجاتی ہے اور آپ مجبور ہو جاتے ہیں تو ڈرنے اور خفا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجبوری آپ کو مندرجہ بالا فوائد سے مستفید کر سکتی ہے۔

Taleem Kiya Hai ?

تعلیم کیا ہے؟
کالمسٹ: عبداللہ جان صابر

اگر دنیا کے تمام عظیم، اہل فکر، اہل فہم اور دانشور لوگوں کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کرکے جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح اور عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ تنہائی پسند ہوا کرتے تھے یہ لوگ اپنی زندگی کا دوتہائی حصہ خلوت میں بتاچکے ہیں یہ پڑھے ہوئے آپ کے ذہن میں ایک سوال اُبھررہا ہوگا کہ یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ؟ کیوں دوسروے انسانوں کو چھوڑ کر تنہائی سے دوستی کر بیٹھتے تھے؟
تو اِس کا جواب بہت صاف اور سیدھا ہے کہ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو اُس کا تخلیقی عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔ اُس کچھ نیا کرنے، پڑھنے لکھنے، بولنے، دیکھنے اور محسوس کرنے کو مل جاتا ہے جو اُس کی شخصیت کو نکھارنے اور پرکشش بنانے میں ”عرقِ گلاب“ ثابت ہو جاتا ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں نوجوانوں کی تشبیہ شاھین سے دی ہوئی ہے، کیونکہ شاھین خلوت پسند ہوتا ہے اور موصوف یہ صفت نوجوانوں میں دیکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنے وطنِ عزیز اور یہاں کے لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کچھ ایسا کرے کہ مرنے کے بعد بھی اُس کا نام زندہ رہے آج میں بھی تنہائی میں بیٹھا تھا تو اچانک میری ذہن کی جھولی سوالوں سے بھر گئی ایک ایک کر کے سارے سوالوں کے جواب دے دئیے لیکن اُن میں ایک سوال نے مجھے چند لمحوں کے لاجواب کر دیا جس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا اور وہ یہ کہ میں اُس کا جواب ڈھونڈنے لگا، آخرکار مجھے جواب مل گیا تو وہ کہتے ہیں نہ کہ کبھی کبھی کمزوری بھی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
تو سوال یہ تھا کہ تعلیم کیا ہے؟ میری سوچ کہ رسدکے مطابق تعلیم صرف کتابوں کو پڑھنا، یاد کرنا، اچھے پیپرز دینا اور انجام کار کامیاب نتیجہ لینا نہیں، بلکہ انسان کے کردار، روئیے، اخلاق اور عادات واطوار میں مثبت تبدیلی کا نام تعلیم ہے۔ کسی چیز کو کب سوچنا ہے؟ کیوں سوچنا ہے؟ خود کے لیے کیا سوچنا ہے اور دوسروں کے لیے کیا سوچنا چاہیے؟ ہر قول و فعل کے لیے وقت مناسب اور محال موزون کا چھناؤ کرنا، بڑوں سے بات کرنے کا ڈھنگ، چھوٹوں پر شفقت کی چارد لپیٹنا، بنتِ حوا پر رحم، ابن آدم کے ساتھ محبت، اُونچ نیچ اور ذات پات سے پاک زندگی اپنانا نشست و برخاست کی اُصولوں کی پابندی کرنا، کس کی دوستی میں زندگی ہے؟ کس کی دوستی زہر قاتل ہے؟ تقریباً یہ ساری باتیں تعلیم کو وجود بخشتی ہیں بلکہ تعلیم میں روح پھونکتی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ وہ ہے جو خود انسان ہو اور انسانیت کی قدر جانتا ہو۔
کتابیں پڑھ پڑھ کر اگر آپ نے پی ایچ ڈی بھی کرلی پر آپ کی سوچ راہِ مستقیم پر نہ ہو آپ کا کرنا کرانا اَن پڑھ جیسا ہو، آپ کی عادتیں اور حرکتیں جاہلوں سے بڑھ کر ہوں تو پھر خود کو تعلیم یافتہ کہنا اور کہلوانا تعلیم کی توہین ہے۔ کیونکہ گدھے پر کتابیں لاد کر گدھا عالم نہیں بن سکتا۔آخر میں تمام طلباء کو ایک عاجزانہ درخواست پیش کرنا چاہوں گا کہ خدارا تعلیم کر کے خود میں مثبت تبدیلی لائیں۔ تاکہ ترقی اور خوشحالی آپ کی دہلیز پر آکر آپ کا مقدر بن جائیں۔
سوئی ہوئی قوموں کو جگا دیتی ہے تعلیم
انسان کو انسان بنا دیتی ہے تعلیم

Farq Par sakta Hai

فرق پڑسکتا ہے
کالمسٹ: عبداللہ جان صابر
اٹلی کے ساحل پر طوفان آگیا۔ طوفان جب تھما تو بے شمار مچھلیاں پڑی تھیں۔ یہ نیم مردہ مچھلیاں تھیں اور ساحل کے ریت ریت پر بری طرح تڑپ رہی تھیں۔ اِس وقت ایک بچہ ساحل پر پہنچا، اُس نے ایک ایک مچھلی اُٹھا کر سمندر میں پھینکنا شروع کردی، وہ شام تک مچھلیاں سمندر میں پھینکتا رہا، ایک بوڑھا فولڈنگ چیئر پر بیٹھ کر بچے کو دیکھ رہا تھا۔ شام کو جب بچہ سستاے کے لیے رکا تو بوڑھا اُٹھ کر اُس کے پاس آیا اور اُس نے پوچھا”بیٹا کیا کر رہے ہو؟“
بچے نے مسکرا کر بابا کی طرف دیکھا اور شائستگی سے بولا ”میں مچھلیوں کو مرنے سے بچا رہا ہوں“ بوڑھے نے بچے کی بات سنی، ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور اُس کے بعد بولا ”اِدھر ساحل کی طرف دیکھو“ بچے نے ساحل کی طرف دیکھا ساحل پر دور دور تک لاکھوں مچھلیاں پڑی تھیں اُن میں سے کتنی مچھلیاں تڑپ رہی تھیں۔ بوڑھے نے بچے کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اُس کے بعد بولا ”بیٹا ساحل پر لاکھوں مچھلیاں پڑی ہیں اُن میں سے کتنی مچھلیاں بچالو گے؟ تمہاری اِس کوشش سے کیا فرق پڑسکتا ہے؟“ بچے نے بابا جی کی بات سنی، قہقہہ لگایا اور بھاگ کر ساحل پر گیاریت پر جھکا۔ ایک مچھلی اُٹھائی اور بھاگتا ہوا پانی کے پاس گیا، مچھلی کو احتیاط سے پانی میں رکھا اور بھاگتا ہوا بوڑھے آدمی کے پاس آیا اور مسکرا کر بولا”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، میری اِس کوشش سے شاید کوئی فرق نہ پڑے لیکن میں نے کچھ حد تک اور کم از کم ایک مچھلی کی زندگی کو تو زندگی دے دی نہ؟“بچہ رکا اوربولا”یہ مچھلی جب پانی میں اُتری ہوگی اور اِس کی ملاقات دوسری مچھلیوں سے ہوئی ہوگی تو اِس نے اُن سے کہا ہوگا کہ ہم انسانوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار تھیں۔ ہم اُنھیں قاتل، ظالم، وحشی اور مفاد پرست مخلوق سمجھتی تھیں لیکن یہ تو بہت ہمدرد بے غرض اور مخلص مخلوق ہے، میں نے انسانوں کے بارے میں سمندری مخلوق کے خیالات تبدیل کر دئیےاور یہ بھی ایک بہت بڑا فرق اور بڑی تبدلی ہے“
بوڑھے نے بچے کی بات سن کر قہقہہ لگایا اور وہ بھی اُس کے ساتھ ملکر مچھلیاں سمندر میں پھینکنے لگا۔
یہ کہانی شاید بچگانہ ہو لیکن اِس میں ایک بہت بڑی حقیقت چھپی ہے اور وہ حقیقت حالیہ میں ہونے والے انتخابات میں سامنے آیا ہے۔ 11 مئی 2013ء کو پاکستان میں انتخابات ہوئے جس میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ آزاد اُمیدواروں نے بھی اپنی قسمت آزمائی۔ مختصراً نواز شریف کو قومی اسمبلی میں اکثریت مل گئی جبکہ عمران خان کے پی کے میں بازی لے گئے اور اصل جنگ بھی اِن دو لیڈروں کے درمیان تھی۔ یہ جو نتیجہ سامنے آیا، یہ انتخابات سے پہلے ہونے والے انتخابی مہم کے بالکل برعکس تھا کیونکہ خان صاحب کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد، نواز شریف کے جلسوں سے زیادہ ہوتی تھیں پھر بھی شیر نے بیٹ کو پیچھے چھوڑ دیا اور ایسا ملک کے تینوں صوبوں میں ہوا لیکن صرف خیبر پختونخوا ایک ایسا صوبہ تھا جہاں کے لوگوں نے عمران خان سے گئے گئے سارے وعدے پورے گئے اور بیٹ کو جیتوا دیا اگرچہ باقی دنیا سمجھتی ہےکہ پشتون کسی کا م کا نہیں، وہ کچھ نہیں کرسکتا اور کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو پشتونوں کا مزاق اُڑاتے ہیں لیکن آج پشتون قوم نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک منظم، متحدہ اور آزاد قوم ہیں۔نہ کبھی غلامی کی ہے اور نہ کرنے کو تیار رہے جب سوچتے ہیں تو اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی مٹی کے لیے سوچتے ہیں۔
اگر کوئی مثبت تبدیلی کا نعرہ بلند کرتا ہے تو اُس کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہیں اور مرتے دم تک اِس کو ہر طرف سے سپورٹ کرتے ہیں۔
تو میں پشتون بھائیوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ یہ نہ سوچین کہ آپکی کوشش سے ملکی حالات میں تبدیلی نہیں آسکتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اِس طوفان زدہ ملک کے چار مچھلیوںمیں سے ایک کو بچانے کی کوشش صرف اور صرف آپ لوگوں نے کی ہے۔ اگر یہ ایک مچھلی بچ جاتی ہے تو وہ دن دور نہیں کہ یہ مچھلی ایک نئی نسل کو جنم دے گی اور یہ ایسی نسل ہوگی جن پر کبھی بھی طوفان یا طغیانی نہیں آئے گی۔

انشاءاللہ پشتون قوم کی اِس آزاد خیالی سے اِس ملک کو بہت فرق پڑے گا جس کے تاثرات مستقبل قریب میں سامنے آنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اِس ملک پر اپنا رحم وکرم فرمائے، آمین

Islam Main Sahafat Ka Tasawar

اسلام میں صحافت کا تصور
کالمسٹ: عاطف الرحمٰن
لفظ صحافت مشن بھی ہے اور کاروبار بھی ، صحافت ایسی ہونی چاہیے جو باوقار ہو اور عوام اُسے پسند کرئے ، پاکستان کی تاریخ میں ہمیں عظیم صحافیوں کا تصور ملتا ہے جیسے سر سید احمد خان ، مولانامحمد علی جوہر ، ابوالکلام آزاد اور ظفر علی خان۔ صحافت کی کئی اقسام ہیں جس میں اخبارات بھی شامل ہیں اخبارات خبروں کا مجموعہ ہوتے ہیں جہاں تک کہ اخبارات کا تعلق ہے اُس کا سلسلہ شروع میں کم تھا کیونکہ پریس ایجاد نہیں ہوا تھا بعد میں جنگ عظیم اول اور دوئم میں اخبارات کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی۔
اسلامی صحافت میں صحافت کا مقصد یہ ہے کہ تعمیر ملت ہو، نیکی کی تلقین کی جائے اور برائی سے روکا جائے قوم کو صحیح اطلاعات سے آگاہ کیا جائے اور ہوا کے رخ کے مطابق نہ چلا جائے بلکہ وہ قوم کی سچائی کے ستھ موقع دے کہ وہ حقیقت کی تہہ تک پہنچ سکے۔ اسلامی صحافت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اِس میں زرد صحافت کا قطعی طور پر کوئی تصور نہیں۔ اِس میں کمرشل ذہنیت کا کوئی تصور نہیں اور جتنے بھی فلمی ایکٹر ہیں یا ایکٹریس اُن تمام کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ گندی اور فحاش فلمیں شائع کرکے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے لیکن اسلامی صحافت میں اِس قسم کا کوئی تصور نہیں۔
 تھے۔ Outstanding Social Reformerمحمد ﷺ
بنی اکرم اِس دنیا میں انقلاب لائے جبکہ اُس وقت نہ پریس تھا نہ ریڈیو نہ اخبار تھے۔ بنی اکرمﷺ نے اِ ن تما م رکاوٹوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کا پیغام کو کونے کونے تک صحابہ کرام ؓ کے ذریعے پہنچایا۔ اگر صحافی حق گوئی سے کام لیتا ہے تو وہ ملک کی خاطر، دین کی خاطر، ملت کی خاطر تو اُس میں کسی بھی فرد کی بہتری کو پیشِ نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ اُس میں تمام اجتماعی بہتری کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔
ایک اور چیز ہےجسے آج کے زمانے میں آزادی اظہاری کہا جاتا ہے قرآن اُسے دوسری زبان میں بیان کرتا ہے مگر دیکھتے  ہیں مقابلتاً قرآن کا کتنا بلند تصور ہے قرآن کا ارشاد ہے کہ ”امرالمعروفہ“ اور ”نہی عن المنکر“ نہ صرف انسان کا حق ہے بلکہ یہ اُس کا فرض بھی ہے قرآن کی رو سے بھی اور احادیث کی ہدایات کے مطابق۔ انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ بھائی کے لیے لوگوں کو کہے اور برائی سے روکے۔ اگر کئی برائی ہو رہی ہو تو صرف یہی نہیں کہ بس اُس کے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اُس کے انسداد کی کوشش بھی فرض ہے مسلمان کا فرج ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کا پاکیزہ رکھے۔

معزبی صحافت ہماری منزل نہیں ہے آج کل نیوز چینل اور اخبار تک سرکولیشن میں اضافے کی پالیسی استعمال کرتا ہے صحافی کو چاہیے کہ وہ تحقیقات کے بارے مین نیوز شائع نہ کرئے اسلام میں ہر شخص کو تحفظ حاصل ہے کہ تحقیق کے بغیر اُس کے خلاف کاروائی نہ کی جائے گی اِس سلسلے میں قرآن کی واضح ہدایت ہے کہ کسی خلاف اطلاع ملنے پر تحقیقات کرلو تاکہایسا نہ ہو کہ کسی گروہ کے خلاف لاعلمی میں کوئی کاروائی کر بیٹھو۔

Saturday, August 24, 2013

Ramadan ul Mubarik Ki Ahmiyat

رمضان المبارک کی اہمیت
کالمسٹ: عاطف الرحمٰن
رمضان قمری مہینوں سے نواں مہینہ ہے اِس کی تسمیہ حدیث میں یہ آئی ہے  کہ رمض سے مشق سے اور رمض کے معنی لغت عربیہ میں جلد دینے کے ہیں چونکہ اِس مہینہ میں یہ خصوصیت ہے کہ مسلمانوں کو گناہوں سے پاک صاف کردیتا ہے بشرطیہ رمضان المبارک کا پورا احترام اور اُس کے اعمال کا اہتمام کیا جائے اِس لیے اِس کا نام رمضان ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اُن دروازوں میں سے کوئی دروازہ بھی رمضان شریف کی آخری رات تک بند نہیں ہوتا اور کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں ہے کہ رمضان شریف کی راتوں میں سے کسی رات میں نماز پڑھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اِس لیے ہر سجدہ کے بدلے میں ڈھائی ہزار نیکیاں لکھے گا اور اِس کے لیے جنت میں سرخ یا قوت کا ایک مکان بنا دے گا۔
رمضان المبارک کی فضیلت کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت ماہ رمضان کے لیے شروع سال سے آخر سال تک سجائی جاتی ہے ، جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت اللہ تعالی! اِس مبارت مہینہ میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے میرے اندر قیام کرنے والے مقرر فرما دیجئے۔
جب رمضان المبارت کے آخری عشرہ کی پہلی شب ہوئی تو محمدﷺ ہمہ تن عبادت میں مصروف ہونے کے لیے تہبند کس لیے اور ازواج مطہرات سے علیحدہ ہوجائے۔ اعتکاف فرماتے، شب بیداری کا اہتمام کرتے، کسی نے پوچھا(تہبند کس لیے) کا کیا مطلب ہے ؟ تو راوی نے جواب دیا کہ حضوراکرم ﷺاُن دنوں بیویوں سے الگ رہتے تھے۔
حضرت ابو مسعود غفاری سے روایت ہے کہ میں نے محمدﷺ سے رمضان کے چاند نظر آنے پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ”اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ رمضان المبارک  کی کیا اہمیت ہے تو میری اُمت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہوجائے“۔ رمضان کی جب پہلی رات ہوتی  ہےتو شیاطین کو بند کر دیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے۔

رمضان المبارک یقیناً ایک بڑی عظمت اور برکت والا مہینہ ہے اُس کی راتوں میں نماز ادا کرنا نفل و سنت قرار دیا جاتا ہے۔ ماہِ رمضان کی اِن تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے مسلمان کو اِس مہینہ میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور کوئی لمحہ ضائع اور بے کار جانے نہیں دینا چاہیے کہ سحری کے وقت دہی اور الاچی کا استعمال کریں تو سارا دن کافی حد کت پیاس نہیں لگے گی۔

Kamzoor Hukomat Aur Kamzoor Election Commission

کمزور حکومت اور کمزور الیکشن کمیشن
کالمسٹ: اسد اللہ آفریدی

حیران ہوں اِس وقت مملکت ِ خدادا پاکستان کو کون چلا رہا ہے وفاقی حکومت جانبدار بھی ہے اور ضعیف بھی اُسے الیکشن کمیشن نے مزید ضعیف بنا دیاہے  لیکن الیکشن کمیشن خود ضعیف ہے پھر کیونکہ عدالتیں حد سے زیادہ توانا اور جوان ہیں، اِس لیے اُنھوں نے الیکشن  کمیشن کو مزید کمزور بنا دیا ہے، جنانچہ  نہ کہیں حکومت نظر آتی ہے ، نہ سمت معلوم ہے اور نہ ملک چلانے والی اصل اتھارٹی کا تعین ہو سکتا ہے گیارہ مئی کی آمد آمد ہے لیکن آج جب بھی دوبندے آپس میں ملتے ہیں، تو ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، عوام حیران ہے کہ آخر اِس مملکت کا کیا بنے گا قوم اِس بات پر بھی حیران ہے کہ ایک ہی شخص کو ایک حلقے سے اہل قرار دیا جاتا ہے اور دوسرے سے وہ نااہل قرار پایا جاتا ہے، اِس وقت افغانستان کے محاذ پر غیر معمولی سرگرمیاں جاری ہیں ایسی سرگرمیاں کہ جن کے پاکستان کے مستقبل پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے، لیکن اِس ملک میں نہ وزیر خارجہ ہے، اور نہ ہی نگران وزیر اعظم کو اِن ایشوز کی فکر یا سمجھ ہے، آمریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر بھی یہی صورتحال ہے ، وزیراعظم کی صرف ایک آنکھ کھلی ہے اور اُس سے بھی وہ بھی اپنی کرسی دلوانے والے چند افراد کو دیکھ رہے ہیں ملک کو سب سے بڑا چیلنج امن و امان کا درپیش ہے لیکن وزیر داخلہ ہمیں ایسے ملے ہیں کہ اُنھوں نے رحمان ملک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ، قبائلی علاقوں میں اُس کے چیف ایگزیکٹیو بھی صدرِ مملکت قدم نہیں رکھ سکتے لیکن اعلان کر رہے ہیں کہ ہم قبائلی علاقوں میں صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔

LoadShading

توانائی بحران آنے والی حکومت کو ایک چیلنج
کالمسٹ: حسنین خان
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ توانائی اور اُس کے بحران کا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ ملک میں بجلی نہ ہونے کے لیے برابر ہے۔ گیس سیکٹر کا بھی کچھ خاص مزہ نہیں کاروباری طبقہ آئے روز گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کرتے نظر آئیں گے۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں اِس وقت سب سے بڑا بحران بجلی کا ہے۔
اِس وقت لگ بھگ 50000میگاواٹ تک شاٹ فال کا سامنا ہے اور دن میں18گھنٹوں سے 20 گھنٹے(دیہی علاقوں میں 12 گھنٹے15 گھنٹےشہری علاقوں میں وہوتی ہے) ایسانہیں کہ حکومت کچھ کر نہیں رہی یا بجلی بن نہیں رہی بلکہ ہم اِس کے زمے دار ہیں۔ کیونکہ آج کا اخباراٹھاؤں تو واپڈا کےترجمان کے مطابق اِس وقت لائن لوس375 ارب تک پہنچ گئے ہیں تو بجلی چوری ہو رہی ہےیا بجلی کا بل ہم باقاعدگی سے جمع نہیں کر رہے ہیں۔
اِس کے علاوہ بھی واپڈا محکمہ کو سیاسی افراد نے اپنا حجرہ بنایا ہوا ہے ایک ایم دی کے بعد دوسرا سیاسی فرد ہوتا ہے جو کہ دیمک کی طرح کھاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ واپڈا کے اندر چھوٹی سطح سے لے کر بڑی سطح تک کرپشن کی لوٹ مار ہے اگر آنے والی حکومت سنجیدگی سے اِس محکمے سے سیاسی اثررسوخ ختم کردے اور لائن لوس وصول کرے توکرپشن پر کنڑول پایا جاسکتا ہے۔اِس لیے مجھے نہیں لگتا کہ لوڈشیڈنگ کےمسئلے پر بہت جلد قابو پالیا جائےگا۔
”پہلے اپنی اعمال ٹھیک کریں“

جیسے ہر کہانی کاو اُس کا عنوان، کھیل کو کھلاری، نیکی کو نیک انسان، شراب کو شرابی، نماز کو نمازی مل جاتا ہے ویسے ہی ہر قوم کو اُس کا کوئی رہبرانہی میں مل جاتا ہے۔ جو عوام کا غم خوار اور خیر خواہ ہوتا ہے مگر ہم بد قسمت لوگ 65 سال میں کوئی لیڈر پیدا نہ کرسکے، کچھ لیڈروں کو خود ہم نے نہیں چھوڑا جیسا کہ قائد ملت کو گولی ماردی اورقائد عوام کو سولی پر چڑھا دیا۔

Jumhori Hukomat Aur Islami Tarz-e-Amal

جمہوری حکومت اور اسلامی طرزعمل
کالمسٹ: محمد شہزاد
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کا دن پاکستان بننے کی پہلی کھڑی تھی۔ شاعرمشرق علامہ محمد اقبال نے اپنے شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو ایک الگ وطن دینے پر مجبور کر دیا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنا خون پسینہ ایک کیا اور آخر کار ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان بننے کا مقصد برصغیر کے مسالمانوں کو ایک جداگانہ وطن دینے کا تھا۔ جس میں وہ اپنےرہن سہن کے طریقے اسلام کے طرزعمل کے مطابق گزارے۔
اقوام کی ترقی کا انحصار نوجوان نسل پر ہے۔ آپ پورے قد کے ساتھ کھڑے ہوں تو قوم آپ کے سائےتلے زندگی گزارے گی۔ عمران خان اکثر کہتا ہے کہ بزدل کھبی لیڈر نہیں بن سکتا۔ جس کی مثال حضرت عمرؓ ہے۔ ایک دفعہ ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا اور شہرکے باہر اُترا اُس کی خبرگیری اور حفاظت کے لئے عمرؓ خود تشریف لائے۔ پہرہ دیتے پھرتے تھے کہ ایک طرف سےرونے کی آواز آئ۔ اُدھرمتوجہ ہوئےاوردیکھا کہ ایک شیر خوار بچہ ماں کی گود میں رورہا ہے۔ ماں کو تاکید کی کہ بچہ کو بہلائے۔ تھوڑی دیر بعد پھر اُدھر سے گزرے تو بچے کو روتا ہوا پایا۔ غیظ میں آکر کہا کہ تو بڑی بے رحم ماں ہے۔ عورت نے کہا کہ آپ کو اصل حقیقت معلوم نہیں خواہ مخوہ دق کرتے ہو۔  بات یہ ہے کہ عمرؓ نےحکم دیا ہے کہ بچہ جب تک دودھ نہ چھوڑے بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے۔ میں اس غرض سے اس کا دودھ چھڑاتی ہوں اور اس وجہ سے روتا ہے۔ عمرؓ کو رقت ہوئی اور کہا کہ ہائے عمر تو نے کتنے بچوں کو رولایا ہوگا۔ اسی دن سے منادی کردی کہ بچے جس دن پیدا ہوتے ہوں اسی دن سے اُن کے وظیفے مقرر کر دیا جائیں۔
اس سلسلے میں اب ہمارے ملکی حالات حکومتی طرزعمل اور عوامی مسائل کے حل کی کوشش پر نظر ڈالئے قوم نے قائداعظم  کی قیادت میں متحد ہو کر پاکستان تو حاصل کر لیا تھا۔ لیکن ہم ان کی امنگوں کےمطابق اسے ایک مضبوط اور خوشحال ملک نہ بنا سکے۔ مگر کرسیوں کی جنگ اقتدار کی ہوس اور مفادات کے حصول کی جدوجہد میں ملک کو ہی دولخت کر دیا۔ ہماری جمہوری حکومت اپنے پانچ سال بھی پورے کر لئے۔ لیکن حالات یوں ہیں کہ عوام کے مسائل اور ملکی معاملات تو حل نہیں ہو سکے۔ لوڈشیڈنگ، اور امن وامان کی صورت حال اتنی ابتر ہے کہ عوام کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں معیشت متاثر ہوئی، بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور جرائم کی شرح بھی بڑھی ہے۔
حضور اکرمﷺ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ میں قائدانہ صلاحیتں بدرجہ اتم موجود تھیں لہزا آپؐ کے دارفانی سے چلے جانے کے بعد صحابہ کرامؓ میں مجلس شورٰی کے ذریعے حکمران کا انتخاب  کیا جاتا تھا۔ جس میں قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ تقوٰی، حسن احلاق، کردار وسیرت پر نظررکھ کر انتخاب ہوا کرتا تھا اگر کسی حکمران کے خلاف کوئی شکایت ہوتی تو خلیفہ وقت حودجا کر اُس محاسبہ کرتا۔

دور خاضر جمہوریت کا ہے جسے مسلمان ممالک نے اپنایا ہے اور وُوٹوں کے ذریعے انتحاب عمل میں لایا جاتا ہے۔حا لانکہ مسلمان ممالک کے سامنے ہمارے اسلاف کے روایات طرزمعاشرت اور انداز غورفکر موجود ہے۔ جنہیں نظرانداز کئے ہوئے ہیں اور مغرب کے پیروکاربن گئے ہیں۔ وُوٹ ایک امانت ہے جسے ایسے افراد کو دینا چاہیے جو ایمان دار، با مروت، مزہبی جذبےسے سرشار، قومی خادم اور محب وطن ہوں اور وہ ملک و قوم کی صحیح خدمت کر سکے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔ ہمارا ملک ۱۹۴۷ء میں آزاد تو ہوا ہے لیکن ہم ترقی کے منازل طے کرنے میں نا کام رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم پر جمہوریت کی بجائے جاگیردارانہ نظام رائج کیا گیا ہے۔ متوسط اور ادنٰے طبقات کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ جاگیردار لوگ پیسوں کے ذریعے متوسط اور ادنٰی طبقات سے وُوٹ حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کے لبادے میں قومی دولت کو لوٹ لیا ہے۔ ملک کو سدھارنے کے لئے شدید انقلاب کی ضرورت  ہے جس کا ہتھیار عوام کے ہاتھوں میں وُوٹ کی شکل میں ہے جس کا صحیح استعمال کیا جائے۔

Woot Ka Sahi Istemal

ووٹ کا صحیح استعمال
کالمسٹ: محمدشہزاد
ووٹ دراصل انسان کی ضمیر کی آواز ہے اور ووٹ ہر اس انسان کا حق بنتا ہے جو اپنی قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتا ہے۔ اللہ تعالٰی کا حکم ہے کہ امانت رکھنے والوں کو امانتیں ادا کرو۔ جو امین نہیں وہ ایماندار نہیں۔ امانت کچھ روپیہ پیسہ پر منحصر نہیں جو صاحب سلطنت ہیں وہ بھی امین ہیں۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
ووٹ ہر فرد کا حق بنتا ہے کہ وہ اسے صحیح استعمال کرے۔ ووٹ ڈالنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میں گواہی دہتا ہوں کہ جس کو میں ووٹ دے رہا ہوں وہ میری نظر میں ایک ایماندار، خاکسار اور مخلص انسان ہے۔ لیکن پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہات میں منظم طرزعمل نہیں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مختلف شہروں اور دیہات میں مخلتف مسائل سامنے آئینگے۔ اکثر اوقات دیہاتوں میں پولنگ سٹیشن کافی دور ہوتے ہیں۔ جہاں ووٹ ڈالنے والے نہیں جا سکتے۔ ہمارے حکومت کو چاہئیے کہ وہ ٹرانسپوٹ مہیا کریں جیسا کہ انڈیا میں ہوتا ہے۔
پاکستان کے مختلف دیہاتی علاقوں میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے لوگ ووٹ ڈالنا گناہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر ہم ووٹ نہیں ڈالیں گے تو ہم پر غلط حکمران مسلط ہوں گے۔ ہم ووٹ استعمال کریں گے تو ایک نڈر اور باشعور لیڈرز کا انتحاب کریں گے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔ اللہ اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو قوم اپنی حالت خود نہیں بدلتی۔
اگر دیکھا جائے تو بڑا مسئلہ عورتوں(خواتین)کے ووٹ ڈالنے کا ہے۔ زیادہ تر پیدل چل کر پولنگ سٹیشن نہیں جا سکتی۔ جس کی وجہ سے اس کا قیمتی ووٹ ضائع ہوتا ہے۔ سب سے بڑااوراہم مسئلہ پولنگ سٹیشن پر نوجوان طبقہ کا ہوتا ہے جو وُوٹ ڈالنے کے بعد وہاں آتے ہیں اور لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ پولنگ سٹشن پر خواتین کےلئے  پردے اور سکورٹی کا انتظام کریں۔
اس کے علاوہ تیسرا بڑا اور اہم مسئلہ ووٹرز کے لئے گرمی کا ہوتا ہے۔ پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں کافی گرمی ہوتی ہے۔ بعض لوگ پیدل چل کر ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔ اور پولنگ سٹیشن میں نہ تو پانی اور نہ سائے کا بندوبست ہوتا ہے۔ لوگ ایک لمبی قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
آپ کا اور میرا ووٹ صرف میری گلی کی نالی بنوانے یا محلے کی گلی پکی کرنے کے لئے نہیں ہوگا۔ یہ معمولی کام تو ویسے بھی ہمارے ٹیکس سے حل ہوتے ہیں۔ اس کاموں کے لئے نہیں ہوگا۔ اس دفعہ ہم اپنے آپ کو اتنا سستا نہیں بکنے دیں گے۔ میرا ووٹ پورے پاکستان کی بقا اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ہوگا۔ انشاءاللہ پورانے چور اور ڈاکو سیاست دانوں کو اس دفعہ مسترد کرنا ہے۔ اہیں مل کر اس ملک کی عظمت اور اپنی بھلائی کے لئے باکردارامیدواران کو اسمبلیوں میں لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Mobile Phone Ka Ghalat Istemal

موبائل فون کا غلط استعمال
کالمسٹ: محمدشہزاد
گزشہ چند سالوں میں پاکستان میں جہاں دیگر سہولیات کی فہرامی دی گئی ہے تو وہاں موبائل فون کے استعمال میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اِس وقت ہمارے ملک میں موبائل فون استعمال کرنے کے تعدادلاکھوں لوگوں سے کروڑوں لوگوں تک جاپہنچی ہے۔ اب میں سے کاروباری حضرات سمیت دیگر شعبوں سے وابسہ حضرات اِس سہولیات سے بھی پورا فائدہ حاصل کر رہے ہں تو نوجوان طبقہ اتنہائی غیر ضروری اور غلط استعمال کر رہا ہے۔ مڈل کالس کے طلباء علم سے لے کر ہائی کلاسوں کے طلباء کے پاس عام طور پر فون سیٹ دیکھا جاتا ہے۔ موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے کال سستے اور مختلف پیکیجز کی فراہمی کے باعث نہ صرف اِس کا استعمال بہت زیادہ ہوا ہے بلکہ یہ اب ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل نے موبائل جون کو انی تفریح اور بری عادتوں کا زریعہ بنالیا ہے کہ موبائل فون کا صحیح استعمال شعبوں نوجوان گمراہی کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں جسن کا اُن کے والدین اور حکومت نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے۔

بعض سکولوں کالجوں میں اگرچہ موبائل فون لانے پر پابندی عائد ہے۔ لیکن اُس پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا ہے۔ جو ہمارے اخلاق، مذہب ایمانی اور قومی اقتداروں کو تیزی کے ساتھ ہڑپ کر لیا جاتا ہے۔ خدا کے لیے دولت اکٹھا کرنے کی جنون سے باہر نکلیں اور اپنے بچوں کی طرف توجہ دیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہماری عدم توجہ اور اِس سنگین معاملے سے جان بوجھ کر چشم پوشی اور ہمارے وقار کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنی اُولاد سے محرومی کا سبب بن جائے حکومت کو بھی اِس سلسلے میں اقدامات اُٹھانے چاہیے اورموبائل کمپنیوں کو بھی اِس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ ورکنگ اوقات کے بعد قال ریٹ انتہائی مہنگے ہونگے جب کہ موبائل فون استعمال کے لیے حد کا یقین کیا جاتا ہے کالجوں اور سکولوں کے طلباء پر موبائل فون سختی سے پابندی لگائی جائے۔ اور ہم اپنے گھروں اور خاندانوں کو محفوظ کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمتِ عملی اپنائیں ورنہ بے غیرتی اور بے شرمی کی زندگی گزارنے کے لے خود کو تیار رکھیں۔

Load Shading Aur Awam Pareshan

لوڈشیڈنگ اور عوام پریشان
کالمسٹ: محمد شہزاد
جدید ٹیکنالوجی نےایک طرف لوگوں کو سہولیات فراہم کی ہیں تو دوسری طرف مسائل پیدا بھی کیے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ جدید ٹیکنالوجی نے عوام کو مفلوج کر رکھا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں 5720 میگا واٹ کی ضرورت ہے اور 14444 میگاواٹ پیداوار ہے جب کہ 1500 میگاواٹ کی مزید ضرورت ہے یہ کہتے ہیں کہ شاٹ فال اور یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان کے پاس بجلی پیدا کرنےکے وسائل موجود ہیں مگر حکومت کے پاس پیسے نہیں سوال یہ اُٹھتا ہے اگر وسائل موجود ہیں اور پیسے نہیں تو کیا پیسوں کے آنے سے بجلی بحران ختم ہوسکے گا۔اور عوام کو لوڈشیڈنگ سے چھٹکارہ مل جائے گا۔
ہمیں حکومت کا ساتھ دینا ہوگا یہ کوئی حل نہیں کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوام بل جمع کرنا چھوڑ دے اور بجلی چوری پر لگی رہے۔ مگر بجلی چوری کے وارداتو  میں واپڈا کے احکام بھی شامل ہیں اوراگر دوسری طرف دیکھا جائے تو کچھ ایسے سیاسی لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی رہائش گاہوں میں بڑےبڑے ائیر کنڈیشنرز اور دیگر ضروریات کی چیزیں لگائی ہیں۔ مگر بجلی کے بل تحال ادا نہیں کیے تو حکومت کے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟۔
ہمارے پاس وسائل تو ہیں لیکن بات ہی پررک گئی اوراِس کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھی بیس بیس گھنٹے لودشیڈنگ ہی رہی ہے اور عوام مجبور ہو کر سڑکوں پر نکلنا شروع ہو گئے اور دوسری طرف طلباء بھی قلم کی جگہ لاٹھیاں اُٹھا کرسڑکوں کا رخ کر رہے ہیں۔ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کےلیے ہر ایک کو قربانی دینا ہوگی اور دوسروں کا خیال رکھنا ہوگا۔ حکومت اور اپنی ذمے داریوں اور فرائض کو پورا ادار کرنا ہوگا تب ہی بجلی کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔