Thursday, August 29, 2013

Farq Par sakta Hai

فرق پڑسکتا ہے
کالمسٹ: عبداللہ جان صابر
اٹلی کے ساحل پر طوفان آگیا۔ طوفان جب تھما تو بے شمار مچھلیاں پڑی تھیں۔ یہ نیم مردہ مچھلیاں تھیں اور ساحل کے ریت ریت پر بری طرح تڑپ رہی تھیں۔ اِس وقت ایک بچہ ساحل پر پہنچا، اُس نے ایک ایک مچھلی اُٹھا کر سمندر میں پھینکنا شروع کردی، وہ شام تک مچھلیاں سمندر میں پھینکتا رہا، ایک بوڑھا فولڈنگ چیئر پر بیٹھ کر بچے کو دیکھ رہا تھا۔ شام کو جب بچہ سستاے کے لیے رکا تو بوڑھا اُٹھ کر اُس کے پاس آیا اور اُس نے پوچھا”بیٹا کیا کر رہے ہو؟“
بچے نے مسکرا کر بابا کی طرف دیکھا اور شائستگی سے بولا ”میں مچھلیوں کو مرنے سے بچا رہا ہوں“ بوڑھے نے بچے کی بات سنی، ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور اُس کے بعد بولا ”اِدھر ساحل کی طرف دیکھو“ بچے نے ساحل کی طرف دیکھا ساحل پر دور دور تک لاکھوں مچھلیاں پڑی تھیں اُن میں سے کتنی مچھلیاں تڑپ رہی تھیں۔ بوڑھے نے بچے کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اُس کے بعد بولا ”بیٹا ساحل پر لاکھوں مچھلیاں پڑی ہیں اُن میں سے کتنی مچھلیاں بچالو گے؟ تمہاری اِس کوشش سے کیا فرق پڑسکتا ہے؟“ بچے نے بابا جی کی بات سنی، قہقہہ لگایا اور بھاگ کر ساحل پر گیاریت پر جھکا۔ ایک مچھلی اُٹھائی اور بھاگتا ہوا پانی کے پاس گیا، مچھلی کو احتیاط سے پانی میں رکھا اور بھاگتا ہوا بوڑھے آدمی کے پاس آیا اور مسکرا کر بولا”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، میری اِس کوشش سے شاید کوئی فرق نہ پڑے لیکن میں نے کچھ حد تک اور کم از کم ایک مچھلی کی زندگی کو تو زندگی دے دی نہ؟“بچہ رکا اوربولا”یہ مچھلی جب پانی میں اُتری ہوگی اور اِس کی ملاقات دوسری مچھلیوں سے ہوئی ہوگی تو اِس نے اُن سے کہا ہوگا کہ ہم انسانوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار تھیں۔ ہم اُنھیں قاتل، ظالم، وحشی اور مفاد پرست مخلوق سمجھتی تھیں لیکن یہ تو بہت ہمدرد بے غرض اور مخلص مخلوق ہے، میں نے انسانوں کے بارے میں سمندری مخلوق کے خیالات تبدیل کر دئیےاور یہ بھی ایک بہت بڑا فرق اور بڑی تبدلی ہے“
بوڑھے نے بچے کی بات سن کر قہقہہ لگایا اور وہ بھی اُس کے ساتھ ملکر مچھلیاں سمندر میں پھینکنے لگا۔
یہ کہانی شاید بچگانہ ہو لیکن اِس میں ایک بہت بڑی حقیقت چھپی ہے اور وہ حقیقت حالیہ میں ہونے والے انتخابات میں سامنے آیا ہے۔ 11 مئی 2013ء کو پاکستان میں انتخابات ہوئے جس میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ آزاد اُمیدواروں نے بھی اپنی قسمت آزمائی۔ مختصراً نواز شریف کو قومی اسمبلی میں اکثریت مل گئی جبکہ عمران خان کے پی کے میں بازی لے گئے اور اصل جنگ بھی اِن دو لیڈروں کے درمیان تھی۔ یہ جو نتیجہ سامنے آیا، یہ انتخابات سے پہلے ہونے والے انتخابی مہم کے بالکل برعکس تھا کیونکہ خان صاحب کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد، نواز شریف کے جلسوں سے زیادہ ہوتی تھیں پھر بھی شیر نے بیٹ کو پیچھے چھوڑ دیا اور ایسا ملک کے تینوں صوبوں میں ہوا لیکن صرف خیبر پختونخوا ایک ایسا صوبہ تھا جہاں کے لوگوں نے عمران خان سے گئے گئے سارے وعدے پورے گئے اور بیٹ کو جیتوا دیا اگرچہ باقی دنیا سمجھتی ہےکہ پشتون کسی کا م کا نہیں، وہ کچھ نہیں کرسکتا اور کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو پشتونوں کا مزاق اُڑاتے ہیں لیکن آج پشتون قوم نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک منظم، متحدہ اور آزاد قوم ہیں۔نہ کبھی غلامی کی ہے اور نہ کرنے کو تیار رہے جب سوچتے ہیں تو اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی مٹی کے لیے سوچتے ہیں۔
اگر کوئی مثبت تبدیلی کا نعرہ بلند کرتا ہے تو اُس کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہیں اور مرتے دم تک اِس کو ہر طرف سے سپورٹ کرتے ہیں۔
تو میں پشتون بھائیوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ یہ نہ سوچین کہ آپکی کوشش سے ملکی حالات میں تبدیلی نہیں آسکتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اِس طوفان زدہ ملک کے چار مچھلیوںمیں سے ایک کو بچانے کی کوشش صرف اور صرف آپ لوگوں نے کی ہے۔ اگر یہ ایک مچھلی بچ جاتی ہے تو وہ دن دور نہیں کہ یہ مچھلی ایک نئی نسل کو جنم دے گی اور یہ ایسی نسل ہوگی جن پر کبھی بھی طوفان یا طغیانی نہیں آئے گی۔

انشاءاللہ پشتون قوم کی اِس آزاد خیالی سے اِس ملک کو بہت فرق پڑے گا جس کے تاثرات مستقبل قریب میں سامنے آنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اِس ملک پر اپنا رحم وکرم فرمائے، آمین

No comments:

Post a Comment