مجبوری
کالمسٹ: عبداللہ خان صابر
زندگی کا دوسرا نام ”آزمائش “ہے۔ اب یہ زندگی اِنس وجن کے
علاوہ بناتات و حیوانات کو بھی دی گئی ہے لیکن انسان اور دوسرے جانداروں میں اگر
کوئی شے مانہ الامتیاز ہے تو وہ تعقل اور استدلال کا مادہ ہے جو قدرت نے انسان میں
ودیعت رکھا ہے اور جس سے دوسرے جاندار محروم ہیں، اِس بناء پر انسان اپنے آپ کو
اشرف المخلوقات کا خطاب دیئے بیٹھے ہیں یہ شرف حاصل کرنے کے بعدانسان لمحہ بہ لمحہ
آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ ام مشاہدے کی بات ہے کہ جس شخص کا عہدہ جتنا
بڑا ہو اُتنا ہی اُس پر بوجھ زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ زمے داری بھی ہوتی ہے۔ جیسے
کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی خاطر یہ جہاں بنا ڈالا۔ یعنی
آپ ﷺ کو ایک ایسا مقام دیا کہ آج تک نہ کسی بندے کو دیا گیا ہے اور نہ دیا جائے
گا، لیکن اُس کے ساتھ ساتھ اُن کی زمہ داریاں بھی زیادہ سونپی گئیں جس کے لیے آپ ﷺ
کو ہر وقت اذیت ناک آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا جس کی تفصیل قرآن و احادیث اور
سیرت البنیﷺ میں آپ کو سب کچھ مل سکتا ہے۔ اور یقیناً ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہر
کسی نے پڑھا ہوگا۔ اِس لیے میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔
اچھا قارئین بات آزمائش اور امتحان کی ہو رہی تھی تو جب کسی
انسان کو آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ مجبور ہو جاتا ہے یعنی اِس کا دوسرا نام
مجبوری ہے اور اِس مجبوری کو ہم ہمیشہ غلط نقطہ نظر سے دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ اِس
سے انسان دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے اور زندگی سفر بن جاتی ہے۔ اِس لیے ہم ہمیشہ
یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ یااللہ ہمیں کسی کے سامنے مجبور نہ کرے اور دن رات ایک
کرکے مختلف مقاصد کے حصول کی بھاگ دوڑ میں مصروف رہتے ہیں تاکہ ہمارے ہاتھ سے کسی
کےسامنے پھیلنے سے بچ جائیں اور زبان پر ”دے دو“ کا لفظ نہ آئے۔ لیکن کبھی آپ نے
ٹھنڈے دماغ سے یہ سوچا ہے کہ مجبوری کے بہت سے فائدے بھی ہیں جن میں سے چند یہاں
زیر قلم کرنا ہوں گا۔
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مجبور ہوکر انسان حقوق اللہ ادا
کرنے کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ یعنی جب اُس کے سامنے کوئی مصیبت یا پریشانی آجاتی
ہے تو وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ نماز پڑھتا ہے، قرآن کی
تلاوت کرتا ہے، ذکر و اذکار اور استغفار کو زور دیتا ہے اور مختلف وظائف بھی کرتا
ہے تو اِسی طرح اللہ تعالی اور انسان کے درمیاں جو رشتہ تھا ہے اور رہے گا،مزید
مضبوط ہوجاتا ہے تو یہ مجبوری ہے جو ایک بندۂ نافرمان کو اپنے رب کی فرمانبراری کا
لائق بناتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوتی ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی
کا ذریعہ ہے۔
یہی مجبوری حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی اہم کردار ادا کرتی
ہے۔ ایک انسان کو جب کسی چیز کی ضرورت پڑ جاتی ہے یعنی مجبور ہو جاتا ہے تو اگر
دوسرے بندے کے پاس وہ چیز موجود ہو تو یہ جاکر اُس سے مانگ لیتا ہے اگر وہ دیتا ہے
تو دونوں کے درمیان ”لنک“ پیدا ہو جاتا ہےجو حقوق العباد ہے۔ اگر انکار کرے تو بھی
فائدہ ہے کیونکہ انکار سے آپکو کسی شخص کا پتہ چلتا ہے کہ یہ کس ٹائپ کا ہے؟۔ اِس
کے بارے میں پشتو کے معروف شاعر اور بزرگ رحمٰن بابا فرماتے ہیں۔
” اخپل و پریدے پکے معلوم شی اے رحمانہ
کلہ کلہ دا غمونوں دوران خہ وی“
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ پر غموں کی بارش ہوتی ہے یعنی
آپ مجبور ہو جاتے ہیں تو اِس میں آپ کو اپنے اور پرائے کا پتہ چل جاتا ہے۔ انسانوں
کے علاوہ جانور بھی مجبوری کے باعث دشمن سے دوست بن جاتےہیں۔ کتا اوربلی جب پھنس
جاتے یں تو ایک ہی پنجرے میں زندگی گزارتے ہیں۔ پھول، کانٹوں کی آغوش میں رہتے ہیں
کیوں؟ مجبوری۔ اِس طرح ہزاروں مثالیں آپ کے سامنے آتی ہیں۔
تو جب آپ پر کوئی بھی آزمائش آجاتی ہے اور آپ مجبور ہو جاتے
ہیں تو ڈرنے اور خفا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجبوری آپ کو مندرجہ بالا فوائد سے
مستفید کر سکتی ہے۔

No comments:
Post a Comment